جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اتنا آساں نہیں وحشت میں گزارا یارا

کلام: حمود حسن مبارکپوری7 ستمبر، 20241,764قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کس سے سمجھیں کسے سمجھائیں خسارہ یارا
گوش بر نالہ یہاں کون ہمارا یارا
وقت نے حال کیا ایسا ہمارا یارا
تاب فرقت ہے نہ اب وصل کا یارا یارا
ہر قدم خون دل و جاں کی طرف بڑھتا ہے
اتنا آساں نہیں وحشت میں گزارا یارا
عمر بھر جانے کس امید پہ غم کھاتے رہے
قرض ہستی تو اجل ہی نے اتارا یارا
ظلمت دہر کو زخموں سے کریں گے روشن
بجھ گیا گرچہ مقدر کا ستارہ یارا
پھیل جاتی ہے فضا میں کوئی خوشبو کی ترنگ
نام لیتا ہے کوئی جب بھی تمھارا یارا
شہر کے شہر پہ خوابوں کا نشہ طاری ہے
آسماں اپنا ہے بے خوابی کا مارا یارا
میں جو ہوتا تو ابل پڑتا رگ جاں سے لہو
کرلیا کیسے مجھے تونے گوارا یارا
کیا عجب بازی ہے دنیا کے جنوں کی بازی
جو بھی جیتا ہے، حقیت میں ہے ہارا یارا
دشت خاموش رہا شہر نے اعراض کیا
ہم نے کس کس کو نہ رو رو کے پکارا یارا
پھر دہک اٹھا ہے سینے میں کوئی شعلہ فشاں
آہ بھرنے دے ذرا دیر خدارا یارا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اتنا آساں نہیں وحشت میں گزارا یارا - دی فری لانسر | دی فری لانسر