آتی ہے صدا عالم افلاک سے اب تک
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بیزار ہیں مجموعۂ املاک سے اب تک
منسوب ہیں جو صاحبِ مسواک سے اب تک
باقی ہے گل و خار کی پہچان تجھی سے
دنیا میں بہاراں ہے تری خاک سے اب تک
ہر شب شبِ معراج کی صورت ہو خدایا
آتی ہے صدا عالم افلاک سے اب تک
تو اسوۂ کامل ہے تو آئینہ ہستی
شہکار اترتے ہیں ترے چاک سے اب تک
چہروں پہ ترا رنگ ہے باتوں میں ترا ڈھنگ
آراستہ جگ ہے تری پوشاک سے اب تک
باطل کے طرف دار ہوں کتنے ہی زباں داں
ڈرتے ہیں ترے لہجہ بے باک سے اب تک
جن پر ترے قدموں کے نشانات پڑے تھے
سجتی ہے زمیں ان خس و خاشاک سے اب تک
جاتے ہوئے دیکھا ہے تجھے اہل نظر نے
"ٹپکے ہے لہو دیدہ نمناک سے اب تک"
وہ شاد ہو ناشاد ہو سب کے لیے خیرات
جاری ہے تری بارگہِ پاک سے اب تک
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





