جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

گلہ وغیرہ تو بین السطور جچتا ہے

کلام: عبدالکریم شاد17 اگست، 20241,251قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کوئی گمان نہ کوئی فطور جچتا ہے
ترا خیال ہی تحت الشعور جچتا ہے
کسی بھی روپ میں آؤ حسین لگتے ہو
کوئی لباس پہن لو حضور جچتا ہے
اسی لیے مجھے خود کو جلائے رکھنا تھا
وہ کہہ رہا تھا مرے رخ پہ نور جچتا ہے
مرے ہی پیار نے مغرور کر دیا ہے اسے
سو اتنے پیار پہ تھوڑا غرور جچتا ہے
یہ کیا کہ پاسِ ادب بھی نہیں رکھا تم نے
گلہ وغیرہ تو بین السطور جچتا ہے
شکن بھی آئے نہ جاناں تمھارے ماتھے پر
کہاں کلی پہ خزاں کا ظہور جچتا ہے
سنور کے آتے ہیں کتنے ہی مے کدے سے مگر
کسی کسی پہ قبائے سرور جچتا ہے
میں قیس ہوں مجھے صحرا نورد رہنے دو
مرا وجود محبت میں چور جچتا ہے
کسی کو دہلی کسی کو ہے ممبئی محبوب
ہمیں تو شاد فقط عشق پور جچتا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

گلہ وغیرہ تو بین السطور جچتا ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر