جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

بہہ پڑتا ہے آنکھوں سے جذبات کا جھرنا بھی

کلام: عبدالکریم شاد26 جولائی، 20241,916قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
روکے سے نہیں رکتا خوشبو کا بکھرنا بھی
بھنوروں کی طبیعت میں ہوتا ہے ٹھہرنا بھی
پیمان تھا جس دن کا وہ آ تو گیا لیکن
افسوس مقدر ہے اس دن کا گزرنا بھی
میں ساحلِ ہستی کے انجام سے واقف ہوں
خطرے سے نہیں خالی کشتی سے اترنا بھی
جب دیکھنے والے کی آنکھیں ہی بکھر جائیں
پھر راس نہیں آتا زلفوں کا سنورنا بھی
دل سرد ہو کتنا ہی اک روز تو پگھلے گا
بہہ پڑتا ہے آنکھوں سے جذبات کا جھرنا بھی
تقدیر کی ہر صورت اچھی تو نہیں لگتی
تصویر میں لازم ہے ہر رنگ کا بھرنا بھی
رکنا بھی نہیں ہم کو کیچڑ سے بھی بچنا ہے
دنیا سے نبھانا بھی دنیا سے مکرنا بھی
پھر شاد خبر آئی اس شوخ کے آنے کی
ایسے میں قیامت ہے اک پل کا گزرنا بھی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

بہہ پڑتا ہے آنکھوں سے جذبات کا جھرنا بھی - دی فری لانسر | دی فری لانسر