جینے کی آرزو میں یہ انسان مر گیا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
صدیاں گزر گئی ہیں رہ انتظار پر
گھبرا کے سو نہ جاؤں میں دوش غبار پر
خود ہی تباہ کرتا مگر حال دل کو اب
موقوف کر رکھا ہے ستم گر کے وار پر
سرکش ہیں جان و دل کہ یہ تکمیل عشق میں
ماریں نہ سر غضب سے جنوں کی دیوار پر
یہ بھی تو کم نہیں کہ دھڑکتا ہے دم بہ دم
کیا لادیں اور بوجھ دل بے قرار پر
شب دیر تک میں خیمۂ وحشت میں دم بخود
تڑپا کیا شکست تمنا کے دار پر
عہد شباب فکر غم جاں میں زرد ہے
جیسے خزاں کی شال ہو دوش بہار پر
دیکھے گا کون ہائے کف پا کے آبلے
چلنے کو چل پڑا ہوں سفر کی پکار پر
جینے کی آرزو میں یہ انسان مر گیا
لکھنا یہ مصرعہ میری لوح مزار پر
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (2)
S
Salahuddin Ansari
16 جولائی، 2024Assalamualaikum alhamdulillah
م
محمد فیصل
14 جولائی، 2024سبحان اللہ





