یہ کیسے گردش ایام نے حالات پھیرے ہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
نہ اب شامیں سہانی ہیں نہ اب رنگیں سویرے ہیں
یہ کیسے گردش ایام نے حالات پھیرے ہیں
کبھی خورشید تھے ہم بھی جہانِ علم و حکمت کے
اور اب سر پر ہمارے جہل کے سائے گھنیرے ہیں
ہماری محفلوں میں ایک مدت سے چراغاں تھا
مگر اب دور تک تنہائیاں ہیں گھپ اندھیرے ہیں
کہاں چرچے ہمارے ہو رہے تھے آسمانوں میں
کہاں تحت الثریٰ میں اب ہمارے بھی بسیرے ہیں
ہر اک چہرے پہ اک چہرہ ہر اک جلوے میں اک پردہ
لٹیرے ہی محافظ ہیں محافظ ہی لٹیرے ہیں
یہ کیا لیلیٰ بھٹکتی پھر رہی ہے قیس کی خاطر
جنوں ہے محو حیرت عقل نے جلوے بکھیرے ہیں
کہاں یہ حال تھا چڑیاں چہکتی تھیں درختوں پر
کہاں سنسان جنگل میں لکڑہاروں کے ڈیرے ہیں
نئی دنیا ہے ساقی زہر کا بیوپار کرتا ہے
نیا دستور ہے سانپوں کے قبضے میں سپیرے ہیں
وہی ہم تھے جنھوں نے کر لیا تھا فتح دنیا کو
عجب ہے اب ہمارے چار سو دنیا کے گھیرے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





