کسی بھی کام سے کیا کام مجھ کو
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
پلاؤ زہر یا دو جام مجھ کو
کسی کروٹ نہیں آرام مجھ کو
مہ و خورشید سے بیزار ہوں میں
بری لگتی ہیں صبح و شام مجھ کو
جلاتی ہیں بدن بارش کی بوندیں
خزاں ہے جلوہ گلفام مجھ کو
تنفس سے پریشاں ہو رہا ہوں
صدائے ساز ہے کہرام مجھ کو
یہ کیسی چپ ہے دیواروں پہ طاری
یہ کیسے گھورتا ہے بام مجھ کو
مسلسل صور پھونکا جا رہا ہے
جہاں ہے صورتِ ہنگام مجھ کو
دماغ و دل میں کیسی کش مکش ہے
حقیقت دار ہیں اوہام مجھ کو
کسی بھی بات کی پروا نہیں شاد!
کسی بھی کام سے کیا کام مجھ کو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





