عہدِ وفا تو ایسے نبھایا نہ جائے گا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مظلومیت کے گیت کو گایا نہ جائے گا
اب ظالموں سے ہاتھ ملایا نہ جائے گا
ہم سے ہی ہر قدم پہ لہو کا مطالبہ
عہدِ وفا تو ایسے نبھایا نہ جائے گا
اب دشتِ ہجرِ یار میں شورِ جگر کے ساتھ
تنہائیوں کا جشن منایا نہ جائے گا
نالائقوں کو پوچھا ہے خوبان شہر نے
ہم سا غریبِ عشق بلایا نہ جائے گا
بزم طرب میں ہم سے تو رقصِ جنوں کے بیچ
زخمِ دلِ تباہ دکھایا نہ جائے گا
یہ فیصلہ ہوا ہے کہ نفرت کے پھول سے
گھر یہ محبتوں کا سجایا نہ جائے گا
اسعؔد قدم بڑھائیے اب سوئے دارِ ہجر
ان سے تو بامِ عشق پہ آیا نہ جائے گا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
A
Abdurrahman
18 فروری، 2024نالائقوں کو پوچھا ہے خوبان شہر نے
ہم سا غریب عشق بلایا نہ جائے گا
یہ جو "غریبِ عشق" کا استعمال ہوا ہے نہ قسم سے مزہ آگیا بھائی.





