جہاں بھی پاؤں اتارا وہیں کنارہ ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
عروج ذات کو لازم بس اک اشارہ ہے
وگرنہ کس نے مجھے آج تک پکارا ہے
اگر غرور پہ دل مطمئن تمھارا ہے
تو یہ ستم بھی بہ طرز کرم گوارا ہے
تمھارے پاس میں خود کو تلاش کرتا ہوں
تمھارے ساتھ میں رہ کر بڑا خسارہ ہے
مری نگاہ کا محور رہا ہے برسوں سے
وہ ماہتاب کے اوپر جو اک ستارہ ہے
وہ عادتا ہی سہی چاہتا تو آجاتا
کہ عادتوں پہ کسے اختیار سارا ہے
بس ایک ٹک تکے جاتی ہیں پتھروں کی طرح
شہید ہجر کی آنکھوں میں دل تمھارا ہے
میں منتظر نہیں ساحل کا ناخدا کی طرح
جہاں بھی پاؤں اتارا وہیں کنارہ ہے
بس ایک آہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا
محبتوں میں کہاں اذن استخارہ ہے
حواس دہر پہ طاری ہے میرے دل کی خلش
یہ میں ہوں یا کہ کوئی ہم کا استعارہ ہے
بدن میں پھیل رہی ہے اذیتوں کی تھکن
رگوں میں خون کا مشکل سے اب گزارا ہے
پس مژہ ہے کوئی بازگشت منظر کی
نشہ ہے نیند کا یا خواب ہی دوبارہ ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
س
سراج عالم زخمی
14 فروری، 2024بہترین لاجواب
بدن میں پھیل رہی ہے اذیتوں کی تھکن





