کون سنتا ہے رہ گزار کی دھن
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
عالم بے بہار و یار کی دھن
زندگی تیرے انتظار کی دھن
جا بجا جو بجو دھنیں ہی دھنیں
میں صفر اور تو ہزار کی دھن
کھینچ لاتی ہے دل کی دھڑکن کو
بزم وحشت میں افتخار کی دھن
عزلت شب میں گو خموشی تھی
چھڑ گئی اشک دل فگار کی دھن
دھن مرے واسطے بنائی گئی
ابر کہسار و برگ و بار کی دھن
ہر مسافت ہے محو شور عبث
کون سنتا ہے رہ گزار کی دھن
تتلیوں کو سنائی دے گی فقط
پھول کی ٹہنیوں پہ خار کی دھن
بہر لب بحر اور ہمیں درکار
تشنگی میں رچی وقار کی دھن
خون گریہ سے کررہی ہے وضو
یاد جاناں کے لالہ زار کی دھن
خاک اڑاتی ہے ہر تصور پر
لفظ و معنی کے اعتبار کی دھن
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





