ہر ایک موڑ پہ کوئی تماش گاہ ملی
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تری نگاہ سے کچھ اس طرح نگاہ ملی
کسی بھٹکتے مسافر کو جیسے راہ ملی
اڑاتے پھرتے رہے خاک سب خرد والے
دیارِ عشق میں مجنوں کو ہی پناہ ملی
ہر ایک طرح سے پہلو بدل کے دیکھ لیا
جہاں خراب ملا زندگی تباہ ملی
کہیں بھی جاؤں کسی بھی طرح سے چھپ جاؤں
تمھاری یاد بہ انداز مہر و ماہ ملی
وہ انجمن نہ رہی اہلِ انجمن نہ رہے
ہر ایک موڑ پہ کوئی تماش گاہ ملی
پتا چلا کہ نصیحت ہے کس قدر آسان
جنابِ شیخ کو جب مہلتِ گناہ ملی
نہ مجھ کو وسعت دنیا کا کچھ سراغ ملا
نہ ان کو دشت نوردی کی کوئی راہ ملی
ہمارے شوق کو اتنی وسیع دنیا میں
ملی تو موت کی آغوش میں پناہ ملی
اُسی سے زیست منور ہوئی ہماری شاد
وہ روشنی جو درونِ دلِ سیاہ ملی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





