جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

موسی کو کارہاۓ خضر سے حذر رہا

کلام: حمود حسن مبارکپوری30 دسمبر، 20232,018قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کل رات اس کی یاد کا ایسا اثر رہا
سینے کی دھڑکنوں سے بھی میں بے خبر رہا
دل کے ملال کا وہ مداوائے کن فکاں
بن کر دعائے شام و سلام سحر رہا
سینے سے بے قراریاں جب تک لگی رہیں
راز بقائے ذات کے شانے پہ سر رہا
تکمیل دیدہ بانئ عرفاں سے پیشتر
موسی کو کارہاۓ خضر سے حذر رہا
منزل کے آس پاس بھٹکتے رہے قدم
مادام انتہائے سفر میں سفر رہا
کس کو دوام عجلت دنیا کے سامنے
خواب و خیال نعرۂ رقص شرر رہا
تجھ سے بچھڑ کے میں تو ترا ہوکے رہ گیا
ہجر و فراق مسئلہ بے ضرر رہا
یارو! "قفا" یہ شہر اسی بے وفا کا ہے
غم جس کا اس حیات میں آٹھوں پہر رہا
تھا کفر اعتبار کا محمل وہ مہ لقا
جنگ وفا میں پاؤں اکھڑنے کا ڈر رہا
"هل من مزيد" اس کی زباں پر ہے مثل نار
توحید اختیار میں وہ کم نظر رہا
یادوں سے صلح کل ہے مگر پھر بھی کیوں حسن
آنکھوں میں بس اسی کا ہی جوش گہر رہا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

موسی کو کارہاۓ خضر سے حذر رہا - دی فری لانسر | دی فری لانسر