جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

جو بھی محصور ہے دروں، نکلے

کلام: حمود حسن مبارکپوری25 دسمبر، 20231,734قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
سرخ نکلے سیہ نموں نکلے
وحشت دل برنگ خوں نکلے
جاں نکل جائے یا جنوں نکلے
جو بھی محصور ہے دروں، نکلے
ہجر کو ذبح کردے کاش کوئی
اور خوں اس سے سرخ گوں نکلے
جب کہ بیعت ہے بے کلی سے دل
ڈھونڈنے پر بھی کیوں سکوں نکلے
اس کے اندر میں رائیگاں سا ملوں
میرے اندر وہ جوں کا توں نکلے
شاعری عشق اداسیاں شکوے
سارے فن اس میں پر فنوں نکلے
دشت ہجراں میں رہنے والے لوگ
کوچ کرتے ہوئے زبوں نکلے
کب کم و کیف کا تقاضا ہے
کم سے کم منہ سے ہاں یا ہوں نکلے
آخری خامشی ہی راجح ہے
قول کتنا ہی پر فسوں نکلے
مل کے چہرے پہ ہم اداسی کو
تیری محفل سے سر نگوں نکلے
حشر کابوس ہجر برپا ہے
اب سخن سے کہو بروں نکلے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

جو بھی محصور ہے دروں، نکلے - دی فری لانسر | دی فری لانسر