منزل بہت قریب ہے دو چار گام اور
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اب بھی ہیں دل میں کلفت و فکرِ انام اور
ساقی! خدا کے واسطے دو چار جام اور
رندوں کو اشتیاق تھا جامِ شراب کا
ساقی نے کر رکھا تھا مگر انتظام اور
دل گنگنا رہا تھا مرا اور ہی غزل
ان کو سنایا آج بھی میں نے کلام اور
اے گردشِ زمانہ وہی چال کب تلک
آنکھیں ترس گئی ہیں دکھا صبح و شام اور
تھکنے لگا تو شوق نے آواز دی مجھے
منزل بہت قریب ہے دو چار گام اور
علم و عمل میں کیسا تصادم ہے دیکھیے
گھر کا ولی ہے اور، حرم کا امام اور
ہر خاص و عام قیس بنا پھر رہا ہے اب
بد نام کتنا ہوگا محبت کا نام اور
رنگینیِ تصورِ جاناں کچھ اور ہے
ہوتا ہے رنگِ بزم دمِ اختتام اور
ہاں سچ ہے شاد میں ہوں گنہگار آدمی
دنیا لگا رہی ہے مگر اتہام اور
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





