گزرا ہے کوئی ایسے کہاں کائنات سے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بس ایک جام ساقی کوثر کے ہات سے
بہتر ہے میرے واسطے آب حیات سے
اے کاش لکھ سکوں کبھی اشکوں سے نعتِ پاک
کیا نعت ہوسکے گی قلم اور دوات سے
ایسا ہنر کہ دوست بنا لے رقیب کو
ایسی نظر کہ دن کو جدا کر دے رات سے
بکھرا ہے ایسا دونوں جہانوں میں کس کا نور
گزرا ہے کوئی ایسے کہاں کائنات سے
وہ رعب ہے کہ آنکھ ملانا محال ہے
وہ نطق ہے کہ شہد ٹپکتا ہے بات سے
دل شہر مصطفی کی طرف ہے رواں دواں
بے زار ہوگئی ہے نظر شش جہات سے
اہلِ فلک میں اس کا بھی ہوتا ہے تذکرہ
سنتا ہے جو بھی نعتِ نبی التفات سے
جس کو ملی ہے احمدِ مرسل کی رہبری
بھٹکا سکے گا کون اسے راہِ نجات سے
اے شاد! اس کی عظمت و رفعت نہ پوچھیے
منسوب ہوگیا جو محمد کی ذات سے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





