کل جانے یہاں کون رہے کس کو خبر ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
سینے میں معلق ہے یوں، دیوار نہ در ہے
دل جیسے کسی مردۂ مصلوب کا سر ہے
اے خانۂ زنداں تجھے کچھ خیر خبر ہے؟
پھر دامن یوسف پہ زلیخا کی نظر ہے
آتا ہو جو یعقوب سا رونے کا سلیقہ
ہر قطرۂ خوں ناب میں امکان گہر ہے
دل توڑنے والے تجھے یہ بھی تو پتا ہو
کہتے ہیں کہ دل دل نہیں اللہ کا گھر ہے
تھک ہار کے ہم لوگ دوراہے پہ کھڑے ہیں
وہ وعدۂ ہم راہی و اقرار کدھر ہے
کچھ گرد سی چہرے پہ جمی رہتی ہے ہردم
اس شہر میں ہر موڑ پہ درپیش سفر ہے
دیوانہ نظر آتا ہے ہر شخص یہاں پر
دلی کی فضاؤں میں محبت کا اثر ہے
شہرت کو زمینوں کے مسائل سے غرض کیا
لے آؤ خس و خاک میں پنہاں جو ہنر ہے
پاس آؤ ذرا عہد وفا باندھ لیں مل کر
کل جانے یہاں کون رہے کس کو خبر ہے
کس سمت نکل آئے ہو اے جان حسن تم
اس دشت ملامت میں فرشتوں کا گزر ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





