جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

میری آنکھوں کو نئے خواب سے آگے لے چل

کلام: فائز بلرامپوری25 ستمبر، 20231,876قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بسترِ مخمل و سنجاب سے آگے لے چل
میری آنکھوں کو نئے خواب سے آگے لے چل
دل کسی اجڑے شبستاں کی طرف مائل ہے
دل کو اِس قریہ شاداب سے آگے لے چل
ناخدا یہ بھی کوئی رنگ ہے طوفانوں کا
کشتئ زیست کو گرداب سے آگے لے چل
تشنگی پھر نہ ٹھہر جائے لبِ ساحلِ شوق
شدتِ پیاس کو زہراب سے آگے لے چل
اک یہی راستہ صبر و شکیبائی ہے
آرزو کو دلِ بے تاب سے آگے لے چل
اے قضا! اتنی عنایت کی نظر ہو مجھ پر
ہوسکے تو مجھے احباب سے آگے لے چل
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

میری آنکھوں کو نئے خواب سے آگے لے چل - دی فری لانسر | دی فری لانسر