جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

دیار حبیب

کلام: کاشف شکیل17 ستمبر، 20231,850قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
نظر کے سامنے جب میرے آقا کا دَیار آیا
مجھے خوش قسمتی پر کیا بتاؤں کتنا پیار آیا
ادھر ہے مسجد نبوی ادھر روضے کی جالی ہے
لگا جیسے کہ جنت کو قرینے سے نِہار آیا
یہاں صدیق پہلو میں یہاں فاروق بازو میں
جوار مصطفٰی میں آخرش ان کو قرار آیا
نبی جب تک نہ آئے عام سا اک شہر تھا یثرب
محمد مصطفی کی ذات انور سے نکھار آیا
مرا دل تھا فسردہ، ذہن بوجھل، روح آشفتہ
درود مصطفیٰ پڑھ کر میں سارا غم اتار آیا
ترے کوچے سے گزرا تو مرے لب پر بہ فرطِ شوق
"فدا تجھ پر مری دنیا" یہ کلمہ بار بار آیا
مری بے نور آنکھوں کے‌ لیے سرمہ ہے اے کاشف
نبیّ پاک کے قدموں کے نیچے جو غبار آیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

دیار حبیب - دی فری لانسر | دی فری لانسر