بام پر کوئی ماہتاب نہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اپنی آمد میں کام یاب نہیں
شعر جو تیرا انتخاب نہیں
توٗ سراپا کتاب ہے لیکن
زندگی کا مری نصاب نہیں
مجھ سے کتنے لبوں کو ہے امید
ایک قطرہ ہوں میں سحاب نہیں
میری جانب قدم بڑھاتا ہے
وہ ابھی عارفِ سراب نہیں
ہر پیالے میں ڈھلتا جاؤں مَیں
آدمی ہوں کوئی شراب نہیں
معذرت اے مرے لطیفہ گو!
مسکرانے کی مجھ میں تاب نہیں
آئنہ کیا بھرے گا رنگ کوئی
آپ کے رنگ کا جواب نہیں
سارے بازار میں اتر آئے
بام پر کوئی ماہتاب نہیں
شیشۂ دل سنبھال کر رکھنا
زندگی ہے خیال و خواب نہیں
قیس کیا جانے شہر کی وحشت
میں کہ ہوں شاد آنجناب نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





