جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

محشر میں شفاعت کا طلب گار ہوں آقا

کلام: کاشف شکیل28 فروری، 20231,671قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
میں تیری محبت میں گرفتار ہوں آقا
مانا کہ گنہگار خطا کار ہوں آقا
اشکوں سے وضو کرنے کو تیار ہوں آقا
ویسے تو سزا کا میں سزاوار ہوں آقا
اس دل میں محبت تری نادار نہیں ہے
کیوں پھر بھی زمانے میں سر دار ہوں آقا
ہر دھوپ گوارا ہے تری راہ پہ چل کر
بدعت کی ہر اک چھاؤں سے بیزار ہوں آقا
نعتوں کے وسیلے سے مرا‌ نام ہوا ہے
میں ورنہ فقط ذرہ بے کار ہوں آقا
ہے رب سے دعا حشر میں جب تشنہ لبی ہو
تب ساغرِ کوثر سے میں سرشار ہوں آقا
میں اپنے لیے گرچہ ہوں غفلت کا مجسم
لیکن تری توقیر میں بیدار ہوں آقا
یہ قلب، یہ گھربار، یہ عزت، یہ لہو سب
تجھ پر نہ فدا ہوں تو میں غدار ہوں آقا
کاشف یہی کہتا ہے ہر اک نعت میں اپنی
محشر میں شفاعت کا طلب گار ہوں آقا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

غ
غیاث الدین
28 فروری، 2023
ماشاءاللہ، بہت ہی اچھی نعت ہے۔

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

محشر میں شفاعت کا طلب گار ہوں آقا - دی فری لانسر | دی فری لانسر