جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کھلتے ہیں کم ہی لوگ سلام و کلام میں

کلام: عبدالکریم شاد1 فروری، 20231,297قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۲ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
رندوں کی ہے خطا نہ خرابی ہے جام میں
ساقی کوئی کمی ہے ترے انتظام میں
ہم سادگی کے مارے سمجھتے ہیں دیر سے
کھلتے ہیں کم ہی لوگ سلام و کلام میں
ساقی کدھر گیا کہ یہاں اہل مے کدہ
الجھے ہوئے ہیں بحثِ حلال و حرام میں
دل مجھ کو ڈھونڈتا ہے سرِ محفلِ بتاں
میں دل کو ڈھونڈتا ہوں سجود و قیام میں
وہ تھا تو مہر و ماہ میں رونق کچھ اور تھی
اب تو کوئی کشش ہی نہیں صبح و شام میں
سانسوں کی آندھیوں میں گھرا ہے مرا وجود
اک عمر لگ گئی ہے مرے انہدام میں
اس کے بھی گورے گال پہ تل ہے تری طرح
میں تجھ کو دیکھ لیتا ہوں ماہ تمام میں
لگتا ہے پھر چھپایا گیا ہے کسی کا سچ
افواہ پھر اڑائی گئی ہے عوام میں
پنچھی سمجھ رہے ہیں کہ آزاد ہو گئے
در اصل اب کے سارا ہی جنگل ہے دام میں
صحرا کی خاک چھان کے لوٹا غریب گھر
وحشت اتر گئی در و دیوار و بام میں
رندوں کو وعظ کرنے گئے تھے جناب شاد
واپس ہوئے تو فرق عیاں تھا خرام میں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کھلتے ہیں کم ہی لوگ سلام و کلام میں - دی فری لانسر | دی فری لانسر