بے خواب صبح کرتے ہیں ہائی کلاس لوگ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
خضرِ جنوں سے کرنے چلے التماس لوگ
خود کو سمجھ رہے تھے ستارہ شناس لوگ
الزام دے رہے ہو مری مے کشی کو کیوں
کیا کیا نہ کر رہے ہیں بہ ہوش و حواس لوگ
آئینہ بن گیا تو ہوئے سب ادھر ادھر
کل تک جو پھر رہے تھے مرے آس پاس لوگ
کیسا جدیدیت کا ہے یہ خبط یا خدا!
فیشن پہن رہے ہیں بہ جائے لباس لوگ
مفلس ہے خواب بستر عیش و طرب میں مست
بے خواب صبح کرتے ہیں ہائی کلاس لوگ
مجنوں کو جاننا ہے تو پھر عشق کیجیے
اس دشت سے گزرتے ہیں فوق القیاس لوگ
ہم دم بہ خود تھے پوچھتے کس سے ترا پتا
چاروں طرف دکھائی دیے بد حواس لوگ
کس کو ہماری پیاس بجھانے کی فکر ہے
اشکوں سے بھر رہے ہیں ہمارا گلاس لوگ
ہستی کا پاس ہے تو تناور درخت بن
پیروں سے ورنہ روندتے رہتے ہیں گھاس لوگ
عبدالکریم شاد سے مل تو پتا چلے
ہنس ہنس کے زیست کرتے ہیں کیسے اداس لوگ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





