جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

وگرنہ جرم ہم نے کیا کیا ہے

کلام: کاشف شکیل22 دسمبر، 20221,813قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تمھارے عشق نے رسوا کیا ہے
وگرنہ جرم ہم نے کیا کیا ہے
مرا خط لے تو لیتا ہے کم از کم
صنم سے اچھا اس کا ڈاکیا ہے
تھے جس کی زلف کے سایے کے طالب
اسی بد روح نے سایہ کیا ہے
نکالا دل کی پَسلی سے تو اب میں
بنا آدم اسے حوا کیا ہے
مجھے دے کر وہ اپنی ساری تلخی
بنی شیریں مجھے تیکھا کیا ہے
پھر اشکوں سے وضو کر کر کے میں نے
بچھڑ کر شکر کا سجدہ کیا ہے
وہ دل کا تنگ تھا سو اس نے کاشف
میں پورا تھا مجھے آدھا کیا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

Z
Ziya khan
22 دسمبر، 2022
Mashallah bahut zabardast gazal hai

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

وگرنہ جرم ہم نے کیا کیا ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر