جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

آج کچھ بھی نہ ہمیں یاد رہا پہلی دفعہ

کلام: حمود حسن مبارکپوری17 دسمبر، 20221,684قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
آج کچھ بھی نہ ہمیں یاد رہا پہلی دفعہ
نہ کوئی عشق نہ ہی رسم وفا پہلی دفعہ
یعنی تحصیل محبت کا بھرم قائم ہے
بے سبب آج ہوا ہے وہ خفا پہلی دفعہ
وہیں منسوب ہوا اہل فنا کا قصہ
لے رہا تھا میں جہاں درس بقا پہلی دفعہ
ایسے تعبیر کو تکتی ہیں ہماری آنکھیں
جیسے کافر کو ملے کوئی خدا پہلی دفعہ
پا بہ جولاں بھی اگر ہوتے تو دوڑے آتے
ایسے انداز سے آئی ہے صدا پہلی دفعہ
اشک تھا آنکھوں میں اور حرف دعا یاد نہ تھا
کر رہا تھا وہ مرے حق میں دعا پہلی دفعہ
موت آئی کہ محبت کا اٹھا شور نشور
مٹ گئے سارے ستم، جور و جفا پہلی دفعہ
ان کے پہلو میں تجھے دیکھ کے افسردہ حسن
مل گئی سارے رقیبوں کو شفا پہلی دفعہ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

آج کچھ بھی نہ ہمیں یاد رہا پہلی دفعہ - دی فری لانسر | دی فری لانسر