وہی ہے دوست اپنا وقت پہ جو کام آجائے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
سحر کی تیرگی ہو یا شبِ تاریک کے سائے
محبت! ہم تری آغوش میں آکر سکوں پائے
چلو اے ہم نواؤ! اب جفا کاروں کی بستی میں
دلِ مضطر پہ شائد واں کوئی احسان فرمائے
یہ بزمِ اہلِ الفت ہے، بہ رنگِ بے نیازانہ
جسے آنا ہو آئے جس کو جانا ہو چلا جائے
ترے دستِ ستم میں ایک لطفِ جاودانی ہے
تو کیوں تجھ سے بھلا کوئی بھی خواہشمند گھبرائے
ہمارا کیا، ہمیں تو بخت نے ویرانیاں بخشی
ترے دشتِ تمنا میں الہی ابر برسائے
بہت تنہائیاں ہیں محشرستانِ تصور میں
کوئی آواز ِ محرم اس بیاباں میں بھی آجائے
ابھی اے دوستو! یہ ساغر و جام و سبو رکھ دو
کہ جب تک کچھ ادب آدابِ میخانہ نہ آجائے
یہی تو مشغلہ ہے اہلِ دل کا ایک مدت سے
محبت کی، پھر اس کے بعد روئے اور پچھتائے
ازل ہی سے ملا ہے جذبہ آوارگی ہم کو
سو جس محفل میں پہنچے نغمہ فریادِ دل گائے
کسے اپنا کہیں اس بستئ ناآشنائی میں
وہی ہے دوست اپنا وقت پہ جو کام آجائے
حقیقت میں اسے کہتے ہیں واعظ دل کی دنیا میں
جو خود تڑپے، تڑپ کر اہلِ محفل کو بھی تڑپائے
وہ کہتے جاریے تھے داستانِ درد و غم فائز
بڑی مشکل سے ہم اپنی ادا پہ ضبط کر پائے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
I
Ibn e yunus hindi
17 اگست، 2023واہ کیا بات ہے! زبردست
مقطع میں "جارہے“ کی جگہ جاریے ہوگیا ہے درست کرلیں





