ایک کنکر سے سمندر کا ردم ٹوٹ گیا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وہ کشاکش تھی کہ ہر تارِ قسم ٹوٹ گیا
چند لمحوں میں تعلق کا بھرم ٹوٹ گیا
عشق مانوس نہ تھا سنگ صفت دنیا سے
ایک ٹھوکر ہی میں شیشے کا صنم ٹوٹ گیا
کوئی مجنوں ہو بیاباں ہے مقدر اس کا
فیصلہ لکھ کے محبت کا قلم ٹوٹ گیا
قلبِ صد پارہ کی حالت ہے کھلونے جیسی
وہ کھلونا جو سرِ دستِ کرم ٹوٹ گیا
ہار منظور نہ تھی موت گوارا کر لی
اس طرح ٹوٹا کہ ہر زورِ ستم ٹوٹ گیا
اس کی آواز نے آشوب اٹھایا دل میں
ایک کنکر سے سمندر کا ردم ٹوٹ گیا
شاد! ہم راہِ محبت میں کہاں آ پہنچے
شیشہ کون و مکاں زیر قدم ٹوٹ گیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





