پھولوں کی شکل اوڑھ کے بیٹھے ہیں خار لوگ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
پھولوں کی شکل اوڑھ کے بیٹھے ہیں خار لوگ
اللہ کی پناہ یہ بے اعتبار لوگ
اچھا ہوں یا برا ہوں یا کس راہ پر ہوں میں
کیا فیصلہ کریں گے مرا اب دو چار لوگ؟
وہ شوخ جس نے چھین لیا ہے قرار جاں
لپکے ہیں پھر اسی کی طرف بے قرار لوگ
کرتے ہیں چاک سینہ و دامان ایک ساتھ
مشکل سے جا کے ملتے ہیں ہم دل فگار لوگ
چھیڑا جو ذکر عہد وفا بے وفاؤں کا
پہلو میں آ کے بیٹھ گیے غم گسار لوگ
طوفاں نہ ہم کو روک سکا، اب یہ حال ہے
حائل ہیں اپنی راہ میں گرد و غبار لوگ
تیرا وصال اپنے مقدر کا عیش تھا
لیکن انائے ہجر کے ہم ہیں شکار لوگ
کیا کیا نہ اس جہان ستمگر نے لے لیا
ہیں زندگی کے سامنے بے اختیار لوگ
کہنے لگے حسن ہی ہمارا امام ہے
تنہائیوں کی صف میں کھڑے بے شمار لوگ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





