پرندے نہ لوٹے شجر کی طرف
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
قدم کیا بڑھے تھے گہر کی طرف
کھنچا جا رہا ہوں بھنور کی طرف
جنوں کو ہے مطلوب غوطہ زنی
نظر اٹھ رہی ہے لہر کی طرف
ہمیں اپنی منزل کی کب تھی خبر
سدا رخ رہا ہم سفر کی طرف
کسی روشنی کے تعاقب میں ہم
چلے جا رہے ہیں شرر کی طرف
ہوائے ترقی نے بھٹکا دیا
پرندے نہ لوٹے شجر کی طرف
کبھی سوجھتی ہے مجھے دشت کی
کبھی دھیان جاتا ہے گھر کی طرف
وہ کیا دور تھا ہائے جب بچپنا
مڑا وادی خیر و شر کی طرف
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





