جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

غزلوں میں مری

کلام: کاشف شکیل7 ستمبر، 20221,674قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ہجر کا درد سمٹ آیا ہے غزلوں میں مری
قیس سا مرد سمٹ آیا ہے غزلوں میں مری
نیند سے دور نَیَن، زلف پراگندہ بھی
اور رخِ زرد سمٹ آیا ہے غزلوں میں‌ مری
جب سے جنت سے بھگایا ہے خدا نے مجھ کو
طرد ہی طرد سمٹ آیا ہے غزلوں میں مری
میری غزلوں کے تصور کو حقیقت سمجھو
عشق سا فرد سمٹ آیا ہے غزلوں میں مری
یہ جو سرخی ہے، لبوں کی ہے، لہو کی یا پھر
احمری وَرد سمٹ آیا ہے غزلوں میں مری
میں نے "اسرار" کی آوارہ پڑھی ہے جب بھی
ایک شب گرد سمٹ آیا ہے غزلوں میں مری
بانو بلقیس کے ریپسٹ ہوئے جب سے رہا
ایک نامرد سمٹ آیا ہے غزلوں میں مری
اس کے رخسار سے بہتا ہوا آنسو کاشف
برف سا سرد سمٹ آیا ہے غزلوں میں مری
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

غزلوں میں مری - دی فری لانسر | دی فری لانسر