جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

یہی کیا کم قیامت ہے

کلام: کاشف شکیل5 ستمبر، 20221,801قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جہانِ عشق اب سونا پڑا ہے
تمھیں پاکر کے بھی کھونا پڑا ہے
اداسی ہوگئی مجھ پر مسلط
تمھیں بھی رات دن رونا پڑا ہے
پڑا رہتا تھا اک کونے میں ہر دم
مگر اب مجھ میں ہی کُونا پڑا ہے
بھگانے کے لیے خوابوں سے تم کو
تصور میں تمھیں چھونا پڑا ہے
یہی کیا کم قیامت ہے مری جاں
تمھیں چومے بنا سونا پڑا ہے
میں دو سے ایک پھر زیرو ہوا ہوں
مگر یہ عشق کیوں دونا پڑا ہے
ترے دامن کے داغوں کو مجھے جاں!
جگر کے خوں سے کیوں دھونا پڑا ہے
غموں کا بوجھ تھا یکساں سبھی پر
مگر کاشف کو ہی ڈھونا پڑا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

یہی کیا کم قیامت ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر