خون دل سارا نگاہوں میں اتر آیا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بزم میں تذکرہ درد جگر آیا ہے
ذہن میں سب کے ترا نقش ابھر آیا ہے
ہوگئی اب تو تمناؤں کی رنگت پیلی
خون دل سارا نگاہوں میں اتر آیا ہے
کتنی آنکھوں کے بدلتے ہوئے تیور دیکھے
تب کہیں آنکھ ملانے کا ہنر آیا ہے
کسی چہرے سے لگاؤ نہ محبت کا پتا
کب بھلا بحر کے ساحل پہ گہر آیا ہے
شیشہ مرگ سے جب ہٹ گئی گرد دنیا
چہرہ زیست بدستور نظر آیا ہے
ترکہ عشق سے ان کو تو ملا دیدہ نو
اور حصے میں مرے دیدہ تر آیا ہے
مجھ کو احساس نہ تھا رشتہ جسم و جاں کا
ہائے جب یاد وہ دوران سفر آیا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





