یہ کیا کہ اہل خرد لگ رہے ہیں سب بیمار
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یہ کیا کہ عشق میں ناکامیاں ہی دکھتی ہیں
یہ کیوں کہ قیمتی چیزیں یہاں پے بکتی ہیں
یہ کیا کہ مجھ کو خلاف قیاس ہونا تھا
یہ کیوں کہ مجھ کو کسی دل کی آس ہونا تھا
یہ کیا کہ تو نہیں یادیں تری ستاتی ہیں
یہ کیوں کہ پہلے ہنساتی ہیں پھر رلاتی ہیں
یہ کیا کہ رنگ وفا زرد پڑ رہا ہے اب
یہ کیوں کہ ذوق جنوں سرد پڑ رہا ہے اب
یہ کیا کہ یاد نہیں ہم کو نیند کب آئی
یہ کیوں کہ بھیڑ بھی دینے لگی ہے تنہائی
یہ کیا کہ اہل خرد لگ رہے ہیں سب بیمار
یہ کیوں کہ اہل جنوں دکھ رہے ہیں سب بیدار
یہ کیا کہ روگ عجب لگ گیا مرے من کو
یہ کیوں کہ کوئی بھی پہچانے نہ مرے فن کو
یہ کیا کہ اپنے بھی سب ہو گئے ہیں بے گانے
یہ کیوں کہ سائے لگے ہیں پسینہ ٹپکانے
یہ کیا کہ حرف دعا میں تمھارا ذکر نہیں
یہ کیوں کہ سب کی خبر ہے تمھاری فکر نہیں
یہ کیا کہ شکوۂ اہل جہان ہے ہم کو
حقیقتوں پے بھی کچھ کچھ گمان ہے ہم کو
خدا کا شکر مگر حوصلہ سلامت ہے
قنوط کفر ہے، بے چارگی ملامت ہے
یہ کیوں کہ تیر لگا آہ تک نہیں آئی
حسن نے شعر پڑھا واہ تک نہیں آئی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





