ہماری آنکھ کے تارے محمد عربی
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دل و نگاہ کے پیارے محمد عربی
ہماری آنکھ کے تارے محمد عربی
فلک نے پوچھا کسی مردِ لازوال کا نام
پکار اٹھّے ستارے محمد عربی
کھلایا غیر کو اور آپ فاقہ مستی میں
تمام وقت گزارے محمد عربی
بہ روز حشر اٹھیں گے بغیر حزن و ملال
بہ صد سرور نثارِ محمد عربی
مجھے عزیز ہے خوشبوئے مشک و عنبر سے
غبار ہائے دیار محمد عربی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





