پھر کاہے کی شب بھر ماتھا پچّی ہو
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
پیٹ بھرا ہو اور طبیعت چنگی ہو
پھر سوچوں جاناں! تم کتنی اچھی ہو
وصل میں بھی جب وصل نہ حاصل ہو یارا
پھر کاہے کی شب بھر ماتھا پچّی ہو
چاند پہ تھوکا لوٹ کے آئے گا تم پر
چاہے قد میں تم کتنی ہی اونچی ہو
پختہ ہوتے ہیں گھر رشتوں ناطوں سے
اینٹ کا کیا ہے پکّی ہو یا کچّی ہو
دنیا جنسی ہوس کی ماری ہے سالی
ایک ہی مطلب، بوڑھی ہو یا بچی ہو
ڈھونڈ رہے ہیں شیخ بھی ایسی لڑکی جو
دِکھنے میں اسمارٹ ہو گرچہ لُچّی ہو
رند تھے ہم اور رند ہی رہنا چاہیں گے
ذاتِ کاشف گرچہ اونچی نیچی ہو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
H
Hamidullah
28 مئی، 2022Bahut khoob





