نام لکھیں گے لہو سے ہم تری تلوار پر
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
پھر ستم توڑا ستمگر نے کسی لاچار پر
دِکھ رہے ہیں خون کے دھبے بہت اخبار پر
رہزنی کا اب گلہ کرنے سے بھی کیا فائدہ
کیوں بھروسہ کر کے نکلے قافلہ سالار پر
مٹ گئے آثارِ الفت اک زمانہ ہوگیا
نقش باقی ہیں ابھی تک وقت کے رخسار پر
توڑ ڈالیں گے کسی دن دیکھنا تیرا غرور
نام لکھیں گے لہو سے ہم تری تلوار پر
ہم سفر بننے سے پہلے ہی سمجھ لو سوچ لو
چلنا پڑ سکتا ہے اک دن جادہ پر خار پر
وقت نے آسان کردی ہیں ہماری مشکلیں
آگیا ہم کو بھی چلنا اب رہِ دشوار پر
کیوں ہمیں شرمندگی ہوتی تمھاری جیت سے
مسکرائے تو ہو کم سے کم ہماری ہار پر
اپنا دامن دیکھیے اپنا گریباں دیکھیے
شوق سے انگلی اٹھانا پھر مرے کردار پر
کون آیا ہے عیادت کے لیے مختار آج
کس کے یہ آنسو پڑے ہیں بسترِ بیمار پر
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





