جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کمبخت یہ فریبِ نظر کون دے گیا

کلام: مختار تلہری ثقلینی12 مئی، 20221,780قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دل سوگوار، دیدہءِ تر، کون دے گیا
بے کیف زندگی کا سفر کون دے گیا
شیشہ گری میں نام تمھارا بہت سنا
پتھر تراشنے کا ہنر کون دے گیا
خوابوں پہ اعتماد کیے جا رہا ہوں میں
کمبخت یہ فریبِ نظر کون دے گیا
دل جاگنے کی ضد پہ رہا رات بھر مگر
آنکھوں کو نیند وقتِ سحر کون دے گیا
دن رات جگمگاتے ہیں پلکوں پہ آج کل
کیسے بتاؤں شمس و قمر کون دے گیا
ان کے سوا دکھائی نہیں دیتا ہے کوئی
میری نظر کو ایسی نظر کون دے گیا
ہونٹوں پہ اب ہنسی نہیں آتی ہے مدتوں
مختار آنسوؤں کا اثر کون دے گیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کمبخت یہ فریبِ نظر کون دے گیا - دی فری لانسر | دی فری لانسر