جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

آزار

کلام: حمود حسن مبارکپوری16 مارچ، 20221,548قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بے اماں درد کی گمنام گزرگاہوں میں
دم بدم سیکڑوں رِستے ہوئے آزار ملے
ایسے آزار جو پختہ ہیں عقیدوں کی طرح
عمر نوحی بھی جنھیں خشک نہیں کر سکتی
خواب در خواب اسی سوختہ تعبیر کا رنگ
رنگ رفتہ کو جواں سال ہی رہنے دے گا
یہ وہ دکھ ہیں جو کہن سال شرابوں کے مثیل
معتبر لوگوں میں ترتیب سے تقسیم ہوئے
یہ وہ دکھ ہیں کہ جو منسوب نہیں ہو سکتے
کسی محبوب، کسی دوست، کسی غیر کے نام
یہ وہ دکھ ہیں جو مہاجر سے نظر آتے ہیں
جیسے مجبورئ قسمت نے انھیں بھیجا ہو
نفس جانے کیوں گریزاں ہے ان آلام سے جو
کبھی اٹھتے نہیں فرمان مداوا لے کر
یوں نہ ہو دل کی تمنا کہ خودی مر جائے
اور آزار کو راحت کی اماں حاصل ہو
تا دم مرگ اداسی سے سجی روحوں کو
یہی آزار شفا ہیں، یہی اکسیر بھی ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

M
Mohammad Aslam
16 مارچ، 2022
Mashaallah bahut khoob

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

آزار - دی فری لانسر | دی فری لانسر