جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

آنکھوں سے آنسوؤں کی روانی نہ پوچھیے

کلام: حمود حسن مبارکپوری14 فروری، 20221,979قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اجڑے ہویے دلوں کی کہانی نہ پوچھیے
کس طرح کٹ رہی ہے جوانی نہ پوچھیے
آنکھوں کو دیکھ لیجیے دل تک نہ جاییے
یعنی کتاب پڑھ کے معانی نہ پوچھیے
دل ڈھونڈتے ہیں دل میں ہی رہ کر کسی کے وہ
انداز شوق نقل مکانی نہ پوچھیے
گویا کسی عذاب میں ہو مبتلا یہ دل
فرقت میں حافظے کی گرانی نہ پوچھیے
رہیے شریک غم یہ اجازت تو ہے مگر
چھلکا ہے کیسے آنکھ سے پانی نہ پوچھیے
پیچھے پڑی ہوئی ہے لگاتار زندگی
یہ کس قدر ہے میری دوانی نہ پوچھیے
کل رات بارشوں کے مقابل میں تھا حسن
آنکھوں سے آنسوؤں کی روانی نہ پوچھیے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

م
منا بھیا
14 فروری، 2022
واااہ کیا خوب لکھا ہے نہ پوچھئے

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

آنکھوں سے آنسوؤں کی روانی نہ پوچھیے - دی فری لانسر | دی فری لانسر