جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

سارے آوارہ گھر ہی جائیں گے

کلام: حمود حسن مبارکپوری31 دسمبر، 20211,280قارئین2 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
رفتہ رفتہ سنور ہی جائیں گے
سارے آوارہ گھر ہی جائیں گے
آپ زحمت نہ کیجیے صاحب
زخم میرے ہیں بھر ہی جائیں گے
آپ دل میں جگہ بنا نہ سکے
آپ دل سے اتر ہی جائیں گے
دل دھڑکتا ہوا اگر ان کو
پیش کر دوں تو ڈر ہی جائیں گے
اتنی ترتیب سے ہمیں جاناں
مت سنوارو بکھر ہی جائیں گے
جینے والوں کا مسئلہ ہے یہاں
مرنے والے تو مر ہی جائیں گے
چند لمحے ہیں زندگی کے حسن
بے خودی میں گزر ہی جائیں گے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (2)

O
Obaidullah
10 مئی، 2024
Ma Sha Allah
ع
عمار بن یاسر
1 جنوری، 2022
ماشاء اللہ بہت شاندار۔ اللہ رب العالمین آپ کو خوب ترقی دے۔

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

سارے آوارہ گھر ہی جائیں گے - دی فری لانسر | دی فری لانسر