جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ایسا لگتا تو نہیں، خیر! مگر ہو شاید

کلام: حمود حسن مبارکپوری23 اکتوبر، 20212,072قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
میرے حالات کی کچھ اس کو خبر ہو شاید
ایسا لگتا تو نہیں، خیر! مگر ہو شاید
تیرے فرقے کا ہر اک شخص منافق نکلا
دیکھنے والوں کی اب تجھ پے نظر ہو شاید
سخت بیمار تھے، کچھ روز ہوئے فوت ہوئے
اس خبر کا بھی نہ کچھ اس پہ اثر ہو شاید
جس کی تاریکی عبارت ہو غم دوراں سے
ایسی شب کی تو کبھی بھی نہ سحر ہو شاید
میں بھی پتھر تھا مجھے بھی نہ کوئی فرق پڑا
اس کے پہلو میں بھی ہیرے کا جگر ہو شاید
اس قدر خود سے میں ناراض ہوں اندر اندر
اب کہ خود مجھ میں ہی میرا نہ گزر ہو شاید
بار ہستی کی تھکن اوڑھ کے اک روز حسن
چار کندھوں پے ہمارا بھی سفر ہو شاید
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

a
abdul aziz
23 اکتوبر، 2021
بہترین

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ایسا لگتا تو نہیں، خیر! مگر ہو شاید - دی فری لانسر | دی فری لانسر