جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

آساں نہ ہو، تو نہ سہی، لیکن گراں نہ ہو

کلام: رشدی ندا26 اگست، 20211,523قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کوئی پناہ کوئی بھی جائے اماں نہ ہو
یارب جہاں میں کوئی کبھی بے مکاں نہ ہو
وہ ابتلا کہ جس سے گزارے گئے ہیں ہم
ایسے کسی حریف کا بھی امتحاں نہ ہو
ہوش و حواس پر ہو مسلط ہر ایک پل
اتنا بھی میرے یار کوئی مہرباں نہ ہو
اے دل کسی عزیز کی رحلت نہ پوچھیے
لگتا ہے جیسے سر پہ کوئی آسماں نہ ہو
ہو زندگی سے اتنی سہولت نصیب کہ
آساں نہ ہو، تو نہ سہی، لیکن گراں نہ ہو
ہر بات صاف لہجے میں کہہ دیجیے جناب
تاکہ کسی کو شکوہ کوئی کل کلاں نہ ہو
تپتا ہوا وجود ہے صحرائے زیست میں
جب تک محبتوں کا ندا سائباں نہ ہو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

آساں نہ ہو، تو نہ سہی، لیکن گراں نہ ہو - دی فری لانسر | دی فری لانسر