جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ذرا کیا مال و زر آیا مکیں بدلے مکاں بدلا

کلام: فیضان اسعد2 اگست، 20211,387قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ذرا کیا مال و زر آیا مکیں بدلے مکاں بدلا
بلندی پر پہنچتے ہی زمین و آسماں بدلا
یہ نسلِ نو بھی ڈوبے گی یقینا؛ عہدِ ظلمت میں
نہ بدلی سوچ اپنی گر نہ میرِ کارواں بدلا
بہت بیٹھے ہیں ہم بھی تاجرانِ قوم و ملت میں
نہ ہم نے چھوڑی بیباکی نہ اندازِ بیاں بدلا
لب و رخسار و گیسو میں ہی الجھی تھی غزل لیکن
غمِ دنیا کی کثرت نے خیالِ شاعراں بدلا
تھیں آنکھیں منتظر دہلیزِ دل پر تیری برسوں سے
نظر بدلی تری لیکن مرا وعدہ کہاں بدلا
گلوں کو نوچنا دھوکے سے کلیوں کو مسل دینا
ہوس کی حکمرانی نے مزاجِ عاشقاں بدلا
سنائے جا رہا تھا ہجر میں بھی وصل کا قصہ
بس اتنی بات پر ہم نے بھی فورا قصہ خواں بدلا
اسی مٹی کے جنمے قیس بھی فرہاد و اسعؔد بھی
نہ وہ مشقِ ستم بدلا نہ وہ رنگِ جہاں بدلا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ذرا کیا مال و زر آیا مکیں بدلے مکاں بدلا - دی فری لانسر | دی فری لانسر