جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

اس قبیلے کا تو سارا شرف دستاروں میں ہے

کلام: ابوالمرجان فیضی16 جولائی، 20211,890قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اس قبیلے کا تو سارا شرف دستاروں میں ہے
بیچ کر پگڑی، بچانا سر کو، غداروں میں ہے
فائدہ بے حد ہے تم یوسف کو بیچو ہند میں
بھائیو! اب تو گرانی خوب بازاروں میں ہے
تیل ہے جو تیس کا تو ٹیکس اس پر ساٹھ ہے
جبر پیہم کی جسارت ایسی سرکاروں میں ہے
جتنے اسٹوڈنٹ تھے سب میڈیکل سے جڑ گئے
فائدہ بھی بے تحاشا آج بیماروں میں ہے
ماسک، سینیٹائزر، ڈسٹینس کی ہیں سرحدیں
آج کل انسانیت تقسیم کے نعروں میں ہے
وقت پر جب نہ ملے ثاقب تو اس کو بعد میں
جھیلنے والا سدا بے کس و بے چاروں میں ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

اس قبیلے کا تو سارا شرف دستاروں میں ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر