تلخ لہجہ، برا ہونے کے لیے کافی ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
عزت نفس کو کھونے کے لیے کافی ہے
تلخ لہجہ، برا ہونے کے لیے کافی ہے
رب کی جانب سے ہلاکت ہی مقدر ہو تو پھر
ایک قطرہ بھی ڈبونے کے لیے کافی ہے
آہ کے واسطے خنجر ہی ضروری تو نہیں
یوں تو اک لفظ بھی رونے کے لیے کافی ہے
مر بھی جاؤں تو خدا ماں کو سلامت رکھنا
اس کا ہونا میرے ہونے کے لیے کافی ہے
ایک آنسو بھی سمندر پہ ہے بھاری یعنی
سب گناہوں کو وہ دھونے کے لیے کافی ہے
بوجھ کچھ اور نہ اب ڈال الٰہی مجھ پر
جسم کا بار ہی ڈھونے کے لیے کافی ہے
میں ہوں مزدور سو بستر کی نہیں ہے حاجت
آسماں "اوڑھ کے سونے" کے لیے کافی ہے
بے وجہ ہی سبھی چائے پے مرے ہیں اسعد
اس سے بہتر یہاں ہونے کے لیے کافی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
م
محمد سلمان
17 جولائی، 2021ماشاءاللہ بہت عمدہ 👍
اللہ آپ کے قلم میں اور زیادہ تاثیر دے
آمین یا رب العالمین 🤲





