جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

سوال دل میں کئی تھے جواب کوئی نہ تھا

کلام: رشدی ندا30 جون، 20211,309قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
بچھڑتے وقت مرا ہمرکاب کوئی نہ تھا
سوال دل میں کئی تھے جواب کوئی نہ تھا
میں اس سے پوچھ کے اب شرمسار کیا کرتی
جوازِ ہجر تو عالیجناب کوئی نہ تھا
میں آنسوؤں کے سوا اور اس کو کیا دیتی
جہاں وہ چھوڑ رہا تھا گلاب کوئی نہ تھا
گئے رُتوں کے حوالے بھی کیا دیے جاتے
وفا کے باب میں اپنا حساب کوئی نہ تھا
مری وفا کا یقیناً کوئی جواب نہیں
بچھڑنے والے ترا بھی جواب کوئی نہ تھا
وہ کوئی بات بھی کھُل کر نہ کہہ سکا رُشدیٰ
ہمارے بیچ تو جبکہ حجاب کوئی نہ تھا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

سوال دل میں کئی تھے جواب کوئی نہ تھا - دی فری لانسر | دی فری لانسر