موسم گل اگرچہ آیا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اس کے پہلو میں کوئی غیر آیا
میرے حصے میں شب بہ خیر آیا
اس کی باتوں میں کتنے موڑ آئے
گفتگو میں بھی لطف سیر آیا
موسم گل اگرچہ آیا ہے
فائدہ کیا جو تجھ بغیر آیا
جانے کیوں منہ بنا لیا اس نے
جب کبھی میرا ذکر خیر آیا
کیسی بستی میں جا بسے ہو جہاں
مسجد آئی نظر نہ دیر آیا
جب کبھی دوستوں کی بات آئی
یاد مجھ کو سحر، زبیر آیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





