لوگ بے درد ہیں اپنوں کو دغا دیتے ہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
شرک و بدعت کے شراروں کو بجھا دیتے ہیں
شمع توحید ہر اک دل میں جلا دیتے ہیں
حوصلہ دیکھو ہمارا کہ ستم سہ کر بھی
دشمن جان کو جینے کی دعا دیتے ہیں
اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کے لیے
وقت آجائے تو گردن بھی کٹا دیتے ہیں
وہ مکرم ہیں بہت رب کی نظر میں بے شک
بھوکے رہ کر جو غریبوں کو کھلا دیتے ہیں
جن کو معلوم نہیں وعدہ وفائی کیا ہے
اب وہی لوگ ہمیں درس وفا دیتے ہیں
کیسے انصاف کے خوگر ہیں عدالت والے
ظلم کرتے جو نہیں ان کو سزا دیتے ہیں
کس پہ اظہر میں زمانے میں بھروسہ رکھوں
لوگ بے درد ہیں اپنوں کو دغا دیتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





