حیات کاشف محال جاناں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
غزل ہو تم یا غزال جاناں
ہر اک ادا بے مثال جاناں
ردا سے ظاہر ہے بے ردائی
ذرا سا آنچل سنبھال جاناں
یہ روپ تیرا، یہ حسن تیرا
جمال جاناں! کمال جاناں!
میں روز مر مر کے جی رہا ہوں
فراق میں ہے وہ حال جاناں
مری محبت امر رہے گی
کبھی نہ ہوگا زوال جاناں
تمھاری نظر کرم سے ہوگی
مری طبیعت بحال جاناں
میں پھر سے تاریک ہو رہا ہوں
مجھے تو پھر سے اُجال جاناں
غزل میں الفاظ کچھ بھی کہہ لوں
مگر ہے تو ہی خیال جاناں
او میری دھڑکن! تمھارے بن ہے
حیات کاشف محال جاناں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (5)
م
محمد تصديق السلفي
30 جون، 2021ماشاء اللہ
بہت خوب
اللہ تعالیٰ علم و عمل میں مزید ترقی عطا فرمائے
آمین
N
Nasim Rahi
29 جون، 2021Zabardast
S
Sama shoeb
29 جون، 2021Best
م
مامون رشید ہارون رشید سلفی
29 جون، 2021سراج عالم زخمی اور کاشف شکیل دونوں کا ہر ایک شعر گوہر نایاب ہوتا ہے... اللہ مزید توفیق عطا فرمائے آمین
T
Tanveer ansari
29 جون، 2021माशाल्लाह भाई बहुत जबरदस्त ग़ज़ल है माशाल्लाह।





