ایک ہی شخص یاد آتا ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اس کا مجھ سے عجیب ناتا ہے
ہر گھڑی مجھ کو آزماتا ہے
دل پہ لگتا ہے جب بھی زخم نیا
ایک اک کرب جاگ جاتا ہے
موج زن ہے وہ میری آنکھوں میں
صورت اشک جھلملاتا ہے
یہ بھی کچھ کم نہیں کہ میرے ساتھ
کوئی تو ہے جو مسکراتا ہے
جانتا ہے کہ بے وفا ہے حیات
آدمی پھر بھی دل لگاتا ہے
دشمن جاں! مرے تعاقب میں
خود کو بے کار میں تھکاتا ہے
سوچتا ہوں یہ بیشتر اوقات
پیار میں کون جاں گنواتا ہے
باپ اولاد کی خوشی کے لیے
اپنا سب داو پر لگاتا ہے
جانے کیا بات ہے سحر محمود
ایک ہی شخص یاد آتا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





