اتوار، 1 نومبر، 2026
ہوم پیج

مولانا عبد المجید جالوادی عمریؒ: ایک تعارف

تحریر: محمد راشد مومن عمری1 نومبر، 20262,064قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۷ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مولانا عبد المجید جالوادی عمریؒ: ایک تعارف
فل اسکرین دیکھیں

بروز اتوار 30 ربیع الآخر 1448ھ بمطابق 11 اکتوبر 2026 کو علی الصبح ضلع بیجاپور کے معروف عالمِ دین مولانا عبد المجید بن ابو شحمہ عمری کی وفات نے جماعت و جمعیت کے ہزاروں افراد کو رنجیدہ کر دیا اور ملتِ اسلامیه ایک مثالی واعظ،بے مثال خطیب اور قوم کے ہمدرد رہنما سے محروم ہو گئی۔إنّا للّه وإنّا إليهِ راجعون

ابتدائی زندگی:

آپ کی ولادت ضلع بیجاپور کے قصبہ جالواد میں سن 1959 میں ہوئی۔آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم مولانا ابو شحمہ جالوادی رحمہ اللہ سے حاصل کی جو اس علاقہ کے معروف عالم دین،اردو،کنڑا زبان کے معروف خطیب،قرآن وسنت پر عمل کی دعوت،بدعات ورسومات کی اصلاح کی راہ میں بے شمار مشقتیں اٹھانے والے داعی ومبلغ تھے۔مولانا ابو شحمہ رشتے میں ہمارے پھوپھا اور مولانا عبد المجید صاحب پھوپھی زاد بھائی اور چچا زاد بہنوئی بھی تھے۔

آپ نے اپنے والد محترم سے بنیادی تعلیم حاصل کی پھر مزید تعلیم کے لیے چودہ پندرہ سال کی عمر میں 1974 میں قدیم علمی درسگاہ جامعہ محمدیہ عربیہ رائے درگ کا رخ کیا،یہاں آپ نے جماعت اول و دوم دو سال تعلیم حاصل کی پھر مزید علمی تشنگی دور کرنے کے لیے جنوبی ہند کی معروف علمی درسگاہ جامعہ دارالسلام عمرآباد کا رخ کیا اور یہاں جماعت سوم تا جماعت پنجم تین سال تعلیم حاصل کی۔گھر کے نا گفتہ بہ حالات کی بنا پرآپ اپنی تعلیم مکمّل نہ کرسکے،جماعت پنجم تک عمرآباد سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے بنگلور کی ایک مسجد میں پانچ سال امامت کی۔اس کے علاوہ آپ نے مدے بہال،شوراپور مختلف مقامات پر امامت وخطابت کی ذمہ داری سنبھالی اور پھر 1995 میں مدرسہ سلفیہ بیجاپور میں سرکاری عربی استاذ کے طور پر متعین ہوئے جہاں آپ نے بچوں کو قرآن کی تعلیم دی دعائیں سکھلائیں اور اسلامی آداب سے روشناس کروایا۔مدرسہ سلفیہ میں 31 سال خدمات انجام دینے کے بعد 2019 میں وظیفہ یاب ہوئے لیکن اس مدرسہ کی تعمیر و ترقی کےلیے ہمہ وقت تیار رہتے اور اس کے لیے وقت نکالتے۔

دعوتی واصلاحی خدمات

آپ جہاں ایک استاد تھے وہیں ایک معروف خطیب اور بے مثال واعظ تھے۔انڈی،سندگی،دیور ہپرگی،مدے بہال،تالیکوٹ،کنور،تامبہ،کلکیرہ اور ہنچال الغرض ضلع بیجاپور کے علاقہ میں جہاں بھی دینی اجلاس واجتماعات ہوتے آپ وہاں مدعو ہوتے۔سردی،گرمی اور بارش ہر موسم میں بھیڑ بھاڑ سے بھری بسوں میں سوار ہوکر جلسہ گاہ پہنچتے اور اپنی ذمہ داری ادا کرتے۔بعض علاقوں میں پہنچنے کےلیے ان بسوں کے انتظار میں کافی وقت لگ جاتا کبھی سیٹ مل گئی کبھی نہیں ملی لیکن ان چیزوں کی کبھی پرواہ نہ کرتے اور بلا ناغہ آپ حاضر ہوتے۔خطاب عام فہم انداز میں کرتے لیکن انداز میں جوش اور ایک درد بھی ہوتا اور حاضرین ہمہ تن گوش رہتے۔بڑے ماہر مقرر تھے سامعین پر چھائے رہتے،آپ پابندی سے فجر بعد درس قرآن اور عشاء بعد درس حدیث کا اہتمام کرتے،آپ کے دروس قنات مسجد میں ہوتے۔

آپ بڑے خوش الحان تھے اس لیے آپ اکثر امامت بھی کرتے،آپ کی تلاوت اور اذان بڑی پر اثر ہوتی۔

مرض اور وفات

آپ کی صحت بہتر تھی لیکن وفات سے دو سال قبل مئی 2024 میں عین اس وقت جب آپ سفر حج پر روانہ ہونے کے لیے بنگلور پہنچ گئے تھے آپ کو دل کی تکلیف محسوس ہونے لگی۔سارے ٹیسٹ کیے گئے تو ڈاکٹروں نے سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا لیکن سفر حج آپ کی دیرینہ تمنا تھی،آپ نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے سفر حج سے رکنا مناسب نہیں سمجھا اور آپ کے بھائی مولانا اسماعیل جامعی کے مشورہ نے آپ کے ارادہ کو اور مضبوط کردیا۔آپ سفر حج پر روانہ ہوگئے اور اللہ کے فضل وکرم سے پورے امن وسکون سے فریضہ حج کی تکمیل کی سعادت حاصل کی اور بسلامت گھر پہنچے۔

حج سے واپسی کے بعد آپ کے دل کے مسئلہ کےلیے یونانی علاج شروع کیا گیا جس سے بہت حد تک طبیعت سنبھل گئی پھر وفات سے ٹھیک ڈیڑھ ماہ قبل گردوں کے مسئلہ کےلیے ڈیالیسس کی نوبت آگئی۔بی ایل ڈی ہسپتال بیجاپور میں علاج جاری رہا۔ایک مرتبہ ایشین ہسپتال حیدرآباد بھی ہو آئے لیکن علاج کی کوئی صورت نہیں نکلی اور چند روز این کے ہسپتال گلبرگہ میں بھی داخل رہے لیکن تشفی بخش علاج نصیب نہ ہوا۔بالآخر دوبارہ بی ایل ڈی ہسپتال بیجاپور میں ہی داخل تھے کہ بروز اتوار 11 اکتوبر 2026 کی صبح ساڑھے پانچ بجے وقت موعود آپہنچا اور جان جان آفریں کے حوالے کردی۔

وفات کے وقت آپ کی عمر 67 سال تھی۔اسی روز بعد نمازِ عصر جامع مسجد بیجاپور میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی،آپ کے فرزند عبد المعز عمری نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد بے شمار تھی،روڈ گیا قبرستان بیجاپور میں ہزاروں عقیدت مندوں نے نم آنکھوں کے ساتھ آپ کو سپرد خاک کر دیا-اللہ آپ کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین

اخلاق وعادات

آپ بڑے ملنسار اور خوش اخلاق انسان تھے۔دوسروں کے کام آتے،ہمارے گاؤں ہنچال سے کوئی مدرسہ عمرة للبنات کے کام سے یا اپنے کسی ذاتی کام سے بیجاپور پہنچتا اس کے کاموں کو نمٹانے میں آپ اور بھائی مولانا عبد الغفار عمری حفظہ اللہ بڑا تعاون کرتے۔متعلقہ افراد سے ملاقات کرواتے،ضرورت پڑنے پر بازار ہو یا ہسپتال ساتھ چلتے اور انھیں وقت دیتے۔

بیجاپور پہنچنے والے علماء یا طلبہ سے مسجد قنات ہو یا مسجد ابوبکر میں امامت اور درس کےلیے کہتے پھر ان کی بڑی ہمت افزائی فرماتے اور حوصلہ بڑھاتے۔

کفایت شعاری اور صبر وشکر کا پیکر تھے۔آپ کے فرزند عبد المعز عمری کے بقول ہمیں پتہ نہیں کہ والد صاحب نے کبھی کسی سے قرض لیا ہو۔

طبیعت میں ظرافت تھی۔مجلسی آدمی تھے،آپ کی موجودگی مجلس کو زعفران زار کردیتی۔ساتھ رہنے والے کبھی بوریت یا بیزارگی محسوس نہ کرتے۔پوشاک،وضع قطع ہر چیز میں سادگی غالب تھی ہمیشہ سفید پوشاک اور عالمانہ شان میں رہتے۔

آپ کی نمازوں کی پابندی مثالی تھی،ہمیشہ وقت سے پہلے نماز کے لیے تیار ہوجاتے۔ہمارے بھائی مولانا عبد الحفیظ عمری مدنی حفظہ اللہ کے بقول کبھی ہم نے آپ کو نماز میں مسبوق ہوتے نہیں دیکھا۔نمازوں کی با جماعت ادائیگی کی اس قدر فکر کہ بازار بھی جاتے تو نماز کے وقت کا خیال کرتے ہوئے جلد لوٹ جاتے۔

آل و اولاد

وارثین اور آل و اولاد میں اہلیہ،چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جن میں بڑے حافظ عبد الواحد سلمہ نمازوں کی پابندی میں بالکل اپنے والد کا نمونہ پسر نمونہ پدر است ہیں۔دوسرے عبد الماجد ایک اسکول میں ملازم ہیں۔تیسرے عبد المجیب ریاض ایئرپورٹ سعودیہ میں ملازمت کرتے ہیں۔چھوٹے عبد المعز عمری مسجد عمر فاروق کے امام وخطیب ہیں۔

دونوں بیٹیاں بیاہی ہیں جن میں ایک داماد بھانجے عبدالمقسط عمری ہیں۔

اللہ تعالیٰ مولانا عبد المجید عمری کی بال بال مغفرت فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین

اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

مولانا عبد المجید جالوادی عمریؒ: ایک تعارف - دی فری لانسر | دی فری لانسر